صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۶ - روزہ دار بھی دعوت میں جائے
روزہ دار کی دعوت: بلایا جائے تو حاضر ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۵۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۶
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا " ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ ، وَغَيْرِ الْعُرْسِ ، وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبول کرو تم دعوت کو جب بلائے جاؤ۔“ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دعوت میں آتے تھے ولیمہ ہو خواہ غیر ولیمہ اگرچہ روزہ دار ہوں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع دعوت قبول کرنا اور روزے کی حالت میں دعوت پر جانا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اس دعوت کو قبول کرو جب تمہیں اس کی طرف بلایا جائے۔ پھر راوی نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دعوت میں جاتے تھے، چاہے ولیمہ ہو یا غیر ولیمہ، حتیٰ کہ وہ روزہ دار بھی ہوتے تو جاتے تھے۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: دعوت کا جواب دینا، اور روزہ دار ہونے کی حالت میں بھی دعوت پر حاضر ہونا۔ اس مخصوص متن میں یہ نہیں کہا گیا کہ روزہ دار ضرور کھائے؛ صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بیان ہوا کہ وہ آتے تھے۔ اس لیے روزہ دار کی دعوت، ولیمہ میں شرکت، اور دعوت قبول کرنے کی حدیث کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما ولیمہ اور غیر ولیمہ دونوں دعوتوں میں جاتے تھے۔
- وہ روزے کی حالت میں بھی دعوت پر حاضر ہوتے تھے۔
- اس حدیث میں اصل زور دعوت پر حاضر ہونے پر ہے، کھانے پر نہیں۔
