صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۵ - دعوت ملے تو حاضر ہوں
دعوت قبول کرنے کی حدیث: جب بلائے جاؤ تو جاؤ
صحیح مسلم : ۳۵۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۵
حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تم دعوت میں جب بلائے جاؤ۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب تمہیں دعوت دی جائے تو دعوت میں جاؤ۔ الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر ان میں معاشرت کا ایک اہم ادب آتا ہے۔ کوئی شخص جب دعوت دیتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ بلایا گیا شخص اس کی بات کا جواب دے اور اس کے پاس حاضر ہو۔ اس حدیث میں دعوت کی قسم کی تفصیل نہیں، مگر دوسرے قریب مضمون والی روایات میں شادی اور ولیمہ کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس مخصوص متن میں ہمیں یہی بات ملتی ہے کہ دعوت دی جائے تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ دعوت قبول کرنے کی حدیث، کھانے کی دعوت، شادی کی دعوت اور بھائی کی دعوت کے سوالات میں یہ روایت بنیادی پیغام دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت ملنے پر اس میں جانا چاہیے۔
- حدیث میں بلانے والے کے بلاوے کا جواب دینے کی تعلیم ہے۔
- دعوت کے معاملے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
- متن مختصر ہے، اس لیے اس کا سبق بھی صاف اور سادہ ہے۔
