صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۲ - دعوت دی جائے تو جائیں

دعوت میں جانے کی حدیث: بلایا جائے تو حاضر ہوں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۲

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حدثنا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تم دعوت میں جب بلائے جاؤ۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں دعوت میں جانے کا عمومی حکم بیان ہوا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: دعوت میں جاؤ جب تمہیں بلایا جائے۔ یہاں الفاظ عام ہیں، اس لیے حدیث کا مطلب دعوت کے جواب سے متعلق ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ کسی کے بلانے کو اہمیت دی جائے۔ دعوت چھوٹی ہو یا بڑی، اصل بات یہ ہے کہ بلانے والا چاہتا ہے کہ آپ اس کے ساتھ بیٹھیں یا اس کی خوشی میں شریک ہوں۔ اس حدیث میں کھانے کی قسم، دعوت کی مقدار یا جگہ کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ دعوت قبول کرنے کی حدیث، دعوت میں جانا، اور اسلامی معاشرت کے آداب جیسے موضوعات میں یہ روایت بہت مختصر مگر مضبوط بنیاد دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت دی جائے تو اس میں جانا چاہیے۔
  • حدیث میں دعوت کے جواب کو اہمیت دی گئی ہے۔
  • بلانے والے کے بلاوے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • متن عام ہے، اس لیے بات کو اسی عمومی دعوت کے ادب تک رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں