صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۳ - بھائی کی دعوت کا جواب
بھائی کی دعوت قبول کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۵۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ ، أَوْ نَحْوَهُ " .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ ”جب بلائے کوئی اپنے بھائی کو تو چاہئیے کہ قبول کرے اس کے بلانے کو شادی ہو یا اور کوئی امر اس کے مانند۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دعوت قبول کرنے کا ایک وسیع انداز بیان ہوا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو بلائے تو وہ اس کی دعوت قبول کرے، خواہ شادی ہو یا اس جیسی کوئی اور دعوت۔ اس روایت میں بھائی کے لفظ سے مسلمان معاشرت کا قریب تعلق سمجھ آتا ہے۔ یہاں صرف ولیمہ نہیں بلکہ شادی یا اس جیسی دعوت کا ذکر ہے۔ اس لیے حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جب کوئی مناسب دعوت دے تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ دعوت قبول کرنے کی حدیث، شادی کی دعوت، بھائی کی دعوت، اور اسلامی آداب معاشرت کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔ اس متن میں کھانے کے لازمی طور پر کھانے یا نہ کھانے کی تفصیل نہیں، بلکہ اصل زور دعوت کے جواب پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھائی کی دعوت ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
- حدیث میں شادی اور اس جیسی دعوتوں کا ذکر ہے۔
- دعوت کا جواب دینا باہمی تعلق کا اچھا انداز ہے۔
- اس روایت میں اصل حکم دعوت قبول کرنے کے بارے میں ہے۔
