صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۰ - روزہ دار دعوت میں دعا کرے

روزہ دار کی دعوت کی حدیث: روزہ ہو تو دعا کرے، نہ ہو تو کھائے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲۰

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ صَائِمًا ، فَلْيُصَلِّ ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا ، فَلْيَطْعَمْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو دعوت دی جائے تو قبول کرے۔ اگر روزے سے ہے تو دعا کرے اور نہیں تو کھائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع دعوت قبول کرنا اور روزہ دار کا طرز عمل ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے۔ اگر وہ روزے سے ہو تو دعا کرے، اور اگر روزے سے نہ ہو تو کھائے۔ یہ روایت دعوت کے مسئلے میں بہت واضح ہے۔ پہلے حکم دیا گیا کہ دعوت قبول کی جائے۔ پھر دو حالتیں بیان ہوئیں: روزہ دار ہو تو دعا کرے، روزہ دار نہ ہو تو کھانا کھائے۔ اس میں روزہ دار کے لیے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دعوت پر حاضر ہونا الگ ہے اور کھانا الگ۔ حدیث میں روزہ توڑنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ روزہ دار کے لیے دعا کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے روزہ دار کی دعوت، دعوت قبول کرنے کی حدیث، اور کھانے کی دعوت کے آداب کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
  • روزہ دار دعوت میں آئے تو دعا کرے۔
  • جو روزے سے نہ ہو وہ کھانا کھائے۔
  • حدیث میں دعوت قبول کرنے اور کھانے کی حالتوں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں