صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۴ - شادی کی دعوت قبول کرنے کا حکم

شادی کی دعوت کی حدیث: بلایا جائے تو جواب دیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۴

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ ، حدثنا بَقِيَّةُ ، حدثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دُعِيَ إِلَى عُرْسٍ ، أَوْ نَحْوِهِ ، فَلْيُجِبْ " .

ابن عمر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں شادی یا ایسی ہی کسی دعوت پر بلایا جائے تو اس کو قبول کرنا چاہئیے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ جسے شادی یا اس جیسی کسی دعوت کی طرف بلایا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔ اس روایت میں دعوت کا دائرہ صرف ایک لفظ تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عرس یعنی شادی اور اس جیسی دعوت کا ذکر آیا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمان معاشرے میں دعوت کو اہمیت دی گئی ہے۔ نکاح اور شادی کے موقع پر لوگ خوشی میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں، اس لیے بلائے جانے والے کو بھی اس بلاوے کا جواب دینا چاہیے۔ حدیث میں سادگی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے، کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے شادی کی دعوت کی حدیث، ولیمہ کی دعوت قبول کرنا، اور دعوت کے آداب کے بارے میں یہ روایت بہت مفید ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شادی کی دعوت ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
  • حدیث میں شادی یا اس جیسی دعوت کا ذکر ہے۔
  • دعوت کا جواب دینا معاشرتی ادب کا حصہ ہے۔
  • متن کا اصل پیغام دعوت قبول کرنے تک محدود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں