صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۲ - میاں بیوی کا راز ظاہر کرنا گناہ

بیوی کا راز ظاہر کرنے کی حدیث: ازدواجی راز داری کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۲

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ ، عَنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ برا لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہے جو اپنی عورت کے پاس جائے اور عورت اس کے پاس آئے (یعنی صحبت کرے) اور پھر اس کا بھید ظاہر کر دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بہت صاف الفاظ میں بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین لوگوں میں وہ شخص بھی ہو گا جو اپنی عورت کے پاس جائے، عورت اس کے پاس آئے، پھر وہ اس کا بھید لوگوں کے سامنے کھول دے۔ اس روایت کا مرکزی پیغام راز داری ہے۔ میاں بیوی کے درمیان جو نجی باتیں ہوتی ہیں، خاص طور پر ازدواجی تعلق کی باتیں، انہیں مجلسوں، دوستوں یا عام لوگوں کے سامنے بیان کرنا حدیث کے مطابق بہت برا عمل ہے۔ بیوی کا راز ظاہر کرنے کی حدیث آج بھی گھریلو زندگی کے لیے بڑا سبق دیتی ہے۔ یہ صرف زبان کی بے احتیاطی نہیں، بلکہ ایک ایسے بھروسے کو توڑنا ہے جو میاں بیوی کے رشتے میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ازدواجی راز، گھر کی عزت اور اعتماد کی حفاظت لازم سمجھنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میاں بیوی کے خاص تعلق کی باتیں دوسروں سے بیان نہیں کرنی چاہئیں۔
  • راز کھولنا اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
  • حدیث میں ایسے شخص کی سخت مذمت آئی ہے جو بیوی کا بھید ظاہر کرے۔
  • گھر کی نجی باتوں کی حفاظت اچھے اخلاق کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں