صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۳ - ازدواجی راز سب سے بڑی امانت

ازدواجی راز امانت ہے: میاں بیوی کے بھید کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۳

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ ، عَنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : إِنَّ أَعْظَمَ .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی امانت اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن یہ ہے کہ مرد اپنی عورت سے صحبت کرے اور عورت مرد سے اور پھر وہ اس کا بھید کھول دے۔“ (یعنی یہ امانت میں خیانت کی)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۳ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے میاں بیوی کے خاص تعلق کے راز کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی امانتوں میں شمار کیا۔ متن کے مطابق مرد اپنی عورت سے صحبت کرے، عورت مرد سے، پھر وہ اس کا بھید کھول دے تو یہ امانت کی حفاظت کے خلاف بات ہے۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ امانت ہے، کیونکہ ازدواجی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف شوہر اور بیوی کے درمیان رہنی چاہئیں۔ ازدواجی راز امانت ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو قابو میں رکھے اور ایسی بات نہ کرے جس سے شریکِ حیات کی عزت یا اعتماد متاثر ہو۔ یہ حدیث میاں بیوی کے راز، گھریلو اعتماد، اور زبان کی حفاظت کو بہت سادہ مگر مضبوط انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ازدواجی راز کو امانت سمجھ کر محفوظ رکھنا چاہیے۔
  • خاص تعلق کی تفصیل دوسروں کے سامنے بیان کرنا درست رویہ نہیں۔
  • شوہر یا بیوی کا بھید کھولنا اعتماد کے خلاف ہے۔
  • زبان کی حفاظت گھر کے سکون میں مدد دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں