صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۴ - عزل اور تقدیر کا بیان
عزل کی حدیث: حمل، سوال اور تقدیر کا جواب
صحیح مسلم : ۳۵۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۴
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ ، فقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَذْكُرُ الْعَزْلَ ، فقَالَ : نَعَمْ ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ ، فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ ، فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ ، فَقُلْنَا : نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فقَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ " ،
ابومحیریز روایت:
میں اور ابوصِرمہ دونوں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ابوصِرمہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے جہاد کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنی المصطلق کا (یعنی جسے غزوہ مریسیع کہتے ہیں) اور عرب کی بڑی عمدہ شریف عورتوں کو قید کیا اور ہم کو مدت تک عورتوں سے جدا رہنا پڑا اور خواہش کی ہم نے کہ ان سے نفع بھی اٹھائیں (یعنی صحبت کریں) اور عزل کریں(یعنی انزال باہر کریں) تاکہ حمل نہ ہو، پھر ہم نے کہا کہ ہم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم ان سے نہ پوچھیں یہ کیا بات ہے؟ پھر ہم نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگر نہ کرو تو بھی کچھ حرج نہیں (یعنی اگر کرو تو بھی کچھ حرج نہیں) اور اللہ تعالیٰ نے جس روح کا پیدا کرنا قیامت تک لکھا ہے وہ تو ضرور پیدا ہو گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عزل کا مسئلہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سوال کی صورت میں آیا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک موقع پر عورتوں سے دوری لمبی ہو گئی، پھر قیدی عورتوں کے معاملے میں عزل کا خیال آیا تاکہ حمل نہ ہو۔ صحابہ نے یہ بات خود طے کرنے کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم نہ کرو تو بھی کچھ حرج نہیں، اور اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جس روح کو پیدا کرنا لکھا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی۔ اس روایت میں عزل کی حدیث کا اصل پیغام تقدیر سے متعلق ہے۔ انسان ظاہری تدبیر سوچتا ہے، مگر پیدائش آخر اللہ کے لکھے ہوئے حکم کے تحت ہوتی ہے۔ اس لیے حدیث میں سوال کرنے، حکم معلوم کرنے، اور حمل و تقدیر کے معاملے کو اللہ کے فیصلے سے جوڑنے کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- عزل کے ذکر میں حدیث نے پیدائش کو اللہ کی تقدیر سے جوڑا ہے۔
- انسان تدبیر کرتا ہے، مگر پیدا ہونے والی جان اللہ کے حکم سے ہی پیدا ہوتی ہے۔
- صحابہ نے معاملہ چھپانے کے بجائے سوال کر کے رہنمائی لی۔
