صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۶ - پیدا ہونے والی روح ضرور آئے گی
عزل کی حدیث: پیدا ہونے والی جان اللہ کے حکم سے آتی ہے
صحیح مسلم : ۳۵۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۶
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حدثنا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَصَبْنَا سَبَايَا ، فَكُنَّا نَعْزِلُ ، ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فقَالَ لَنَا : " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ، وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
ہم کو کچھ عورتیں قیدی ملیں اور ہم عزل کرنے لگے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کرتے ہی رہو گے؟ تم یہ کرتے ہی رہو گے؟ تم یہ کرتے ہی رہو گے؟ اور جو روح پیدا ہونے والی ہے قیامت کے دن تک ضرور پیدا ہو جائے گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ کچھ قیدی عورتیں ملیں اور لوگ عزل کرنے لگے۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے تین بار توجہ دلانے والے انداز میں فرمایا کہ تم یہ کرتے ہی رہو گے؟ پھر فرمایا کہ جو روح قیامت تک پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو جائے گی۔ اس روایت میں عزل کا مسئلہ براہِ راست سوال کے جواب میں آیا ہے۔ متن کا زور اس بات پر ہے کہ حمل اور پیدائش کا آخری فیصلہ اللہ کے علم اور تقدیر کے ساتھ ہے۔ یہ عزل کی حدیث انسان کو اپنی تدبیر پر گھمنڈ سے بچاتی ہے۔ جو جان پیدا ہونا ہے، وہ اللہ کے حکم سے آئے گی، چاہے انسان اپنے حساب سے کوئی طریقہ اختیار کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوال پوچھ کر دینی رہنمائی لینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- حدیث میں پیدا ہونے والی روح کے لیے اللہ کی تقدیر کا ذکر ہے۔
- انسانی تدبیر اللہ کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سوال کرنے والوں کو بار بار متوجہ فرمایا۔
