صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۷ - عزل نہ کرنا بھی حرج نہیں
عزل نہ کرو تو حرج نہیں: تقدیر کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۵۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۷
وحدثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " ،
ابوسعید روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگر عزل نہ کرو تو کچھ حرج نہیں ہے اس لیے کہ یہ تو تقدیر کی بات ہے۔“ (یعنی حمل ہونا نہ ہونا)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو کچھ حرج نہیں، کیونکہ یہ تقدیر کی بات ہے۔ اس حدیث میں گفتگو بہت مختصر ہے، مگر مطلب واضح ہے۔ حمل ہونا یا نہ ہونا صرف انسان کے اندازے سے طے نہیں ہوتا۔ عزل کی حدیث یہاں قاری کو یہ سمجھاتی ہے کہ پیدائش کا معاملہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر سے وابستہ ہے۔ روایت میں لمبی فقہی بحث نہیں، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عزل کے مقابلے میں تقدیر کا ذکر فرمایا۔ آسان زبان میں، انسان سبب اختیار کر سکتا ہے، مگر نتیجہ اللہ کے فیصلے کے مطابق آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حمل کا معاملہ اللہ کی تقدیر سے جڑا ہوا ہے۔
- حدیث میں عزل نہ کرنے پر حرج نہ ہونے کا ذکر ہے۔
- مختصر روایت کو اس کے اپنے الفاظ تک محدود رکھ کر سمجھنا چاہیے۔
- انسان کو نتیجے کے بارے میں اللہ کے فیصلے پر یقین رکھنا چاہیے۔
