صحیح مسلم حدیث ۳۵۵۳ - اللہ ہر جان کا خالق ہے
عزل کی حدیث: ہر جان اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتی ہے
صحیح مسلم : ۳۵۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۵۳
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنا ، وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : ذُكِرَ الْعَزْلُ ، عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ " ، وَلَمْ يَقُلْ : فَلَا يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا .
ابو سعید خدری روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے عزل کا ذکر ہوا تو فرمایا: ”کیوں کرتے ہو؟ اور یہ نہیں فرمایا کہ نہ کرو اس لیے کہ کوئی جان پیدا ہونے والی نہیں کہ اللہ عزوجل اسے پیدا نہ کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے عزل کا ذکر ہوا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ کیوں کرتا ہے؟ راوی نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ پھر وجہ بیان ہوئی کہ کوئی جان ایسی نہیں جو پیدا ہونے والی ہو مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے۔ اس روایت میں عزل کی حدیث کے اندر ایک لطیف فرق موجود ہے: سوالیہ انداز آیا، مگر صاف ممانعت کے الفاظ نہیں آئے۔ اس کے ساتھ تقدیر اور اللہ کی خالقیت کا عقیدہ بھی بیان ہوا۔ حمل اور پیدائش کے بارے میں انسان جو بھی تدبیر سوچے، حدیث کے مطابق پیدا ہونے والی جان اللہ ہی کے پیدا کرنے سے وجود میں آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آپ صلى الله عليه وسلم نے عزل کے ذکر پر سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔
- راوی نے صاف کیا کہ منع کے الفاظ نقل نہیں ہوئے۔
- ہر پیدا ہونے والی جان اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
- متن کے الفاظ کے فرق کو سمجھنا حدیث فہمی میں ضروری ہے۔
