صحیح مسلم حدیث ۳۵۵۶ - لونڈی، عزل اور حمل
عزل کے باوجود حمل: جو تقدیر میں تھا وہ آ گیا
صحیح مسلم : ۳۵۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۵۶
حدثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حدثنا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا ، وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا ، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فقَالَ : " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ ، فقَالَ : إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ ، فقَالَ : " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
جابر روایت:
ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میری ایک لونڈی ہے کہ وہ ہمارے کام کاج کرتی ہے اور پانی لاتی ہے اور میں اس سے صحبت کرتا ہوں اور نہیں چاہتا کہ وہ حاملہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اگر تو چاہے تو عزل کر اس لیے کہ آ جائے گا جو اس کی تقدیر میں آنا لکھا ہے۔“ پھر تھوڑی مدت کے بعد وہ آیا اور عرض کی کہ وہ حاملہ ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہلے ہی خبر دی تھی کہ اسے آ جائے گا جو اس کی تقدیر میں ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اس کے پاس ایک لونڈی ہے جو کام کاج کرتی ہے اور پانی لاتی ہے، وہ اس سے صحبت کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ وہ حاملہ ہو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہو تو عزل کر لو، کیونکہ جو اس کی تقدیر میں ہے وہ اس تک آ جائے گا۔ کچھ مدت بعد وہ شخص آیا اور بتایا کہ وہ حاملہ ہو گئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہلے ہی خبر دی تھی کہ جو اس کے لیے مقدر ہے وہ آ جائے گا۔ یہ عزل کی حدیث تقدیر کو عملی واقعے کے ساتھ سمجھاتی ہے۔ انسان عزل کرتا رہا، مگر حمل وہی ہوا جو اللہ نے لکھا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آپ صلى الله عليه وسلم نے عزل کے ساتھ تقدیر کا ذکر فرمایا۔
- لونڈی کے حاملہ ہونے کا واقعہ اسی تقدیر کی مثال بن گیا۔
- انسانی تدبیر ہمیشہ انسان کی چاہت کے مطابق نتیجہ نہیں دیتی۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات واقعے کے بعد واضح ہو گئی۔
