صحیح مسلم حدیث ۳۵۸۳ - رضاعت سے نسب والی حرمت
رضاعت سے حرمت: نسب جیسے رشتوں کا حکم
صحیح مسلم : ۳۵۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۸۳
وحدثنا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حدثنا هَمَّامٌ ، حدثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ ، فقَالَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کریں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مجھے حلال نہیں کہ وہ میری بھتیجی ہے رضاعی اور رضاعت سے حرام ہوتی ہے جو چیز حرام ہوتی ہے نسب سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ نکاح کا ذکر کیا گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ پھر حدیث میں ایک جامع بات آئی کہ رضاعت سے وہ چیز حرام ہوتی ہے جو نسب سے حرام ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رضاعت کی حدیث، رضاعی رشتہ نکاح اور دودھ شریک رشتہ جیسے الفاظ اس روایت کے اصل موضوع سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں سبق یہ ہے کہ نکاح کے معاملے میں صرف خاندانی نسب نہیں دیکھا جاتا، بلکہ رضاعت کا تعلق بھی دیکھا جاتا ہے۔ حدیث کا دائرہ واضح ہے: رضاعی بھائی کی بیٹی سے نکاح حلال نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعت سے قائم ہونے والا رشتہ نکاح کے حکم پر اثر ڈالتا ہے۔
- جس طرح نسبی بھتیجی حرام ہے، اسی طرح حدیث میں رضاعی بھتیجی کا حکم بیان ہوا۔
- نکاح کے مشورے میں شرعی رشتہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
- حدیث کا حکم صاف اور مختصر انداز میں بیان ہوا ہے۔
