صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۱ - سالم مولیٰ ابی حذیفہ کا واقعہ
رضاعت کبیر کی حدیث: سالم مولیٰ ابی حذیفہ کا واقعہ
صحیح مسلم : ۳۶۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۱
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ فَأَتَتْ تَعْنِي ابْنَةَ سُهَيْلٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَعَقَلَ مَا عَقَلُوا ، وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ ، تَحْرُمِي عَلَيْهِ وَيَذْهَبِ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ " ، فَرَجَعَتْ ، فقَالَت : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ ، فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے اور سہیل کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ (یعنی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی) اور عرض کی کہ سالم حد بلوغ کو پہنچ گیا اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگا وہ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابوخذیفہ کے دل میں اس سے کراہت ہے۔ سو فرمایا ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ”تم سالم کو دودھ پلا دو کہ تم اس پر حرام ہو جاؤ اور وہ کراہت جو ابوحذیفہ کے دل میں ہے جاتی رہے۔“ پھر وہ لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی کہ میں نے اس کو دودھ پلا دیا اور ابوحذیفہ کی کراہت جاتی رہی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۱ کا خلاصہ
یہ حدیث رضاعت کبیر کے ایک خاص واقعے کو بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں رہتے تھے۔ جب وہ بالغ ہو گئے اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگے تو سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے گھر کے اندر آنے سے پیدا ہونے والی بے چینی بیان کی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں سالم کو دودھ پلانے کا حکم دیا، تاکہ حرمت رضاعت قائم ہو اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل کی کراہت دور ہو جائے۔ روایت میں بعد میں یہی بتایا گیا کہ ایسا کرنے کے بعد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی کراہت جاتی رہی۔ اس لیے اس متن کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مشکل گھریلو معاملے میں براہ راست نبوی رہنمائی لی گئی اور دل کی ناگواری کا شرعی حل بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے معاملے میں شرعی رہنمائی کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف رجوع کیا گیا۔
- حدیث میں سالم، سہلہ اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہم کے خاص واقعے کا ذکر ہے۔
- ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل کی کراہت ختم ہونے کو روایت میں نتیجے کے طور پر بیان کیا گیا۔
