صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۲ - سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کی روایت

سالم مولیٰ ابی حذیفہ حدیث اور روایت بیان کرنے میں احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۲

وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَالِمًا لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا ، وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ ، قَالَ : " أَرْضِعِيهِ ، تَحْرُمِي عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَمَكَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَهِبْتُهُ ، ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَقَدْ حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ ، قَالَ : فَمَا هُوَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَحَدِّثْهُ عَنِّي أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ .

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قاسم بن محمد کو خبر دی کہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! سالم مولیٰ ابوحذیفہ کے ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ تھے اور وہ بالغ ہو گئے اور مردوں کی باتیں جاننے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ ”تم سالم کو دودھ پلا دو۔“ ابن ابی ملیکہ جو راوی حدیث ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے ایک سال تک اس روایت کو کسی سے بیان نہیں کیا اور خوف کرتا تھا اس سے (یعنی ڈرتا تھا کہ لوگ اس پر کچھ اعتراض نہ کریں) پھر میں قاسم سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ تم نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی کہ وہ میں نے آج تک کسی سے نہیں بیان کی انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: اب تم مجھ سے روایت کرو اور کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی (یعنی قاسم کو خبر دی)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا کا سوال بیان ہوا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں، اب وہ بالغ ہو چکے ہیں اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انہیں دودھ پلا دو، اس سے تم ان پر حرام ہو جاؤ گی۔ اس روایت کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے اسے ایک سال یا قریب قریب اتنی مدت تک بیان نہیں کیا، کیونکہ انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ لوگ اسے سن کر اعتراض نہ کریں۔ پھر قاسم بن محمد سے دوبارہ بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اسے میری طرف سے بیان کرو، کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرنے میں احتیاط، سند کی نسبت اور امانت بہت اہم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سوال مشکل ہو تو اہل علم اور نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت کی طرف رجوع کیا گیا۔
  • راوی نے حدیث بیان کرنے میں جلدی نہیں کی بلکہ اطمینان چاہا۔
  • حدیث کی نسبت واضح کرنا روایت کی امانت میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں