حدیث ۳۶۰۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۰۳

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت : قَالَت أُمُّ سَلَمَةَ ، لِعَائِشَةَ : إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ ، قَالَ : فقَالَت عَائِشَةُ : أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ ؟ قَالَت : إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، قَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ " .

‏‏‏‏ زینب، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی نے کہا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کے پاس غلام ایفع (یعنی ایسا لڑکا جو جوانی کے قریب ہے) آتا ہے جس کو میں پسند نہیں کرتی کہ میرے پاس آئے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اچھی نہیں اور حالانکہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! سالم میرے پاس آتا ہے اور وہ جوان مرد ہے، ابوحذیفہ کے دل میں اس کے آنے سے کراہت ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”تم اس کو دودھ پلا دو کہ وہ تمہارے پاس آیا کرے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں