صحیح مسلم حدیث ۳۶۱۳ - الولد للفراش کا فیصلہ

الولد للفراش حدیث: نسب کے جھگڑے کا نبوی فیصلہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۱۳

حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت : اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ ، فقَالَ سَعْدٌ : هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ ؟ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فقَالَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ " ، قَالَت : فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَوْلَهُ : يَا عَبْدُ ،

عائشہ روایت:

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ دونوں نے جھگڑا کیا ایک لڑکے میں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ لڑکا میرے بھائی کا بچہ ہے کہ نام میرے بھائی کا عتبہ بن ابی وقاص ہے اور انہوں نے مجھ سے کہہ رکھا تھا کہ یہ میرا فرزند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شباہت ملاحظہ فرما لیں۔اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن زمعہ نے کہا کہ یارسول اللہ! یہ لڑکا میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے فراش پر اس کی لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ مشابہ ہے بخوبی عتبہ کے ساتھ اور فرمایا: ”کہ اے عبد! لڑکا اسی کا ہے جس کے فراش پر پیدا ہو اور زانی کو بے نصیبی اور محرومی ہے یا پتھر۔ اور اسے سودہ زمعہ کی بیٹی! تم اس سے چھپا کرو۔“ پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس کو کبھی نہیں دیکھا۔ اور محمد بن رمح کی روایت میں یا عبد کا لفظ نہیں ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۱۳ کا خلاصہ

یہ حدیث نسب کے ایک مقدمے کو بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑ پڑے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بچہ ہے، اور انہوں نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے والد کے فراش پر ان کی لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لڑکے میں عتبہ سے واضح مشابہت دیکھی، پھر فرمایا: “لڑکا فراش والے کا ہے، اور زانی کے لیے محرومی ہے۔” ساتھ ہی سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث میں نسب، فراش، مشابہت اور احتیاط سب ایک ہی واقعے میں آئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نسب کے جھگڑے میں فیصلہ ظاہری مشابہت کے بجائے فراش کے اصول پر ہوا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے “الولد للفراش” کا اصول بیان فرمایا۔
  • مشابہت موجود ہونے کے باوجود سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو احتیاطاً پردے کا حکم دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں