صحیح مسلم حدیث ۳۶۴ - رعیت کے حقوق میں خیانت کا انجام
رعیت سے خیانت اور حاکم کی جواب دہی
صحیح مسلم : ۳۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ : مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لَأُحَدِّثَكَ .
حسن روایت:
عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور وہ بیمار تھے، اس کو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے بیان نہیں کی تھی تجھ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کسی بندے کو رعیت نہیں دیتا پھر وہ مرتے وقت ان کے حقوق میں خیانت کرتا ہوا مرتا ہے مگر اللہ حرام کر دیتا ہے اس پر جنت کو۔“ ابن زیاد نے کہا: کیا تم نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی اس سے پہلے۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بیان نہیں کی تجھ سے یا میں کاہے کو بھلا تجھ سے بیان کرتا (اور اپنی جان پر مصیبت لیتا، اب تو مرتا ہوں اب مجھے تیرا ڈر نہیں اس واسطے بیان کر دی)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۴ کا خلاصہ
یہ حدیث ذمہ داری اور قیادت کے بارے میں سخت تنبیہ دیتی ہے۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے وقت عبیداللہ بن زیاد کو وہ حدیث سنائی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ مضمون یہ ہے کہ جس بندے کو اللہ کسی رعیت کی ذمہ داری دے، پھر وہ مرتے وقت ان کے حقوق میں خیانت کرنے والا ہو، تو اس کے لیے بہت سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث میں رعیت کے حقوق، حکمران کی امانت، اور ذمہ دار شخص کی دیانت سب شامل ہیں۔ بات صرف بڑے حاکم تک محدود نہیں سمجھی جاتی؛ متن کا اصل زور یہ ہے کہ جسے لوگوں کا معاملہ دیا جائے، وہ دھوکا نہ کرے، حق نہ دبائے، اور اپنے سپرد لوگوں کے ساتھ خیرخواہی رکھے۔ اس روایت میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ بات بیماری کے موقع پر کہی گئی، جب سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اسے چھپانے کے بجائے بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رعیت کے حقوق ایک امانت ہیں۔
- ذمہ دار شخص کو خیانت سے بچنا چاہیے۔
- لوگوں کے معاملات میں دھوکا سخت خطرہ ہے۔
- نصیحت کا وقت آئے تو حق بات کہنی چاہیے۔
