صحیح مسلم حدیث ۳۶۵ - رعیت کی امانت پر تائیدی روایت
حاکم کی امانت اور رعیت کے حقوق
صحیح مسلم : ۳۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۵
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : قَالَ الْحَسَنُ : كُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَجَاءَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا .
حسن روایت:
ہم سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ان کی بیمار پرسی کیلئے اتنے میں عبیداللہ بن زیاد آیا۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے سنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث ذمہ داری اور قیادت کے بارے میں سخت تنبیہ دیتی ہے۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے وقت عبیداللہ بن زیاد کو وہ حدیث سنائی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ مضمون یہ ہے کہ جس بندے کو اللہ کسی رعیت کی ذمہ داری دے، پھر وہ مرتے وقت ان کے حقوق میں خیانت کرنے والا ہو، تو اس کے لیے بہت سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث میں رعیت کے حقوق، حکمران کی امانت، اور ذمہ دار شخص کی دیانت سب شامل ہیں۔ بات صرف بڑے حاکم تک محدود نہیں سمجھی جاتی؛ متن کا اصل زور یہ ہے کہ جسے لوگوں کا معاملہ دیا جائے، وہ دھوکا نہ کرے، حق نہ دبائے، اور اپنے سپرد لوگوں کے ساتھ خیرخواہی رکھے۔ اس سند میں حسن کے بیان کے مطابق لوگ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے موجود تھے، پھر عبیداللہ بن زیاد آیا اور یہی مضمون بیان ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رعیت کے حقوق ایک امانت ہیں۔
- ذمہ دار شخص کو خیانت سے بچنا چاہیے۔
- لوگوں کے معاملات میں دھوکا سخت خطرہ ہے۔
- نصیحت کا وقت آئے تو حق بات کہنی چاہیے۔
