صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۲ - حیض میں طلاق کا حکم
حیض میں طلاق کا حکم: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۵۲
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ ، ثُمَّ تَطْهُرَ ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ ، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بی بی کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”اسے حکم دو کہ رجوع کرع کرے اور اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے اور پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو پھر چاہے روک رکھے چاہے طلاق دے قبل اس کے کہ اسے ہاتھ لگائے اور یہی عدت ہے جس کے حساب سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی طلاق کا حکم کیا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۲ کا خلاصہ
حیض میں طلاق کا حکم اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واقعے سے واضح ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رجوع کریں، پھر عورت کو رہنے دیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر حیض آئے، پھر دوبارہ پاک ہو۔ اس کے بعد اگر چاہیں تو اسے رکھیں اور اگر طلاق دینا چاہیں تو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیں۔ حدیث کے آخر میں بتایا گیا کہ یہی وہ عدت ہے جس کے حساب سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی طلاق کا حکم دیا ہے۔ یہ روایت طلاق میں جلد بازی کے بجائے شرعی طریقے کی پابندی سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کی حالت میں طلاق دینے کا واقعہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے رجوع کا حکم دیا اور مخصوص وقت تک انتظار کرنے کو فرمایا۔
- طلاق کا معاملہ عدت کے حساب سے کرنا چاہیے۔
- طلاق میں جلد بازی کے بجائے حکم کے مطابق قدم اٹھانا چاہیے۔
