صحیح مسلم حدیث ۳۶۶۳ - طہر میں طلاق اور عدت کا آغاز
طلاق عدت کے شروع میں: طہر میں طلاق دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۶۳
وحدثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ ، وَقَالَ : يُطَلِّقُهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا .
وہی مضمون اس سند سے مروی ہوا اس کے اخیر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رجوع کرے اور پھر طلاق دے طہر میں بغیر جماع کے۔“ اور فرمایا: کہ ”طلاق دے عدت کے شروع میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسی واقعے کی مزید وضاحت آتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیوی سے رجوع کریں، پھر اگر طلاق دینی ہو تو پاکی کی حالت میں دیں، اور اس طہر میں جماع نہ ہوا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ طلاق عدت کے شروع میں دی جائے۔ یہ بات حیض میں طلاق، طہر میں طلاق اور عدت کے مسئلے کو سمجھنے والوں کے لیے بہت اہم ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ طلاق کا وقت بھی شریعت میں اہم ہے، اور اسے بے ترتیب یا جذباتی انداز میں نہیں کیا جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رجوع کے بعد طلاق دینی ہو تو طہر کی حالت کا لحاظ رکھا جائے۔
- اس روایت میں طہر کے اندر جماع کے بغیر طلاق دینے کا ذکر ہے۔
- طلاق عدت کے شروع میں دینے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- طلاق کے وقت اور طریقے میں نبوی رہنمائی ضروری ہے۔
