صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۵ - طلاق ثلاثہ اور لوگوں کی جلد بازی

طلاق ثلاثہ میں جلد بازی: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۷۵

وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ " أَلَمْ يَكُنِ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً ، فقَالَ : قَدْ كَانَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ ، فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ " .

ابوالصہباء روایت:

ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ دو اپنی عطیہ میں سے کیا نہیں تھیں تین طلاق پھر وہی مضمون ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۵ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی تین طلاق کے موضوع سے متعلق ہے۔ ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بات کی اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تین طلاق ایک نہیں ہوتی تھی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایسا تھا۔ پھر بیان کیا گیا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں نے طلاق کے معاملے میں تیزی اور جلد بازی شروع کی تو انہوں نے اسے ان پر جاری کر دیا۔ اس حدیث کا اہم سبق یہی ہے کہ طلاق کو کھیل یا جلدی کا معاملہ نہیں بنانا چاہیے۔ روایت ہمیں ایک تاریخی تبدیلی بتاتی ہے، مگر ساتھ ہی لوگوں کے رویے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طلاق کے الفاظ میں جلد بازی خطرناک نتائج لا سکتی ہے۔
  • روایت میں تین طلاق کے سابق عمل کا ذکر ہے۔
  • سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں کی تیزی کا بیان ہے۔
  • طلاق کے مسئلے میں سنجیدگی اور احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں