صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۶ - بیوی کو حرام کہنا قسم ہے

بیوی کو حرام کہنا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک قسم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۷۶

وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .

عبداللہ بن عباس روایت:

جب کوئی اپنی بیوی کو کہے تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم ہے کہ اس میں کفارہ دینا ضروری ہےاور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (۳۳-الأحزاب:۲۱) کہ بیشک تمہارے لیے اچھی چال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۶ کا خلاصہ

یہ حدیث حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کہنے کے مسئلے سے متعلق ہے، خاص طور پر بیوی کے بارے میں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے بارے میں کہے کہ وہ مجھ پر حرام ہے، تو یہ قسم ہے اور اس کا کفارہ دینا ضروری ہے۔ پھر انہوں نے آیت پڑھی کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اس روایت میں بات بہت واضح اور محدود ہے: بیوی کو حرام کہنا طلاق کے طور پر نہیں بلکہ قسم کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ کفارہ کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے وقت الفاظ کو بڑھا کر عمومی دعویٰ نہیں بنانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق بیوی کو حرام کہنا قسم ہے۔
  • اس روایت میں قسم کے کفارے کا ذکر ہے۔
  • دینی مسئلے میں صحابی نے قرآن کی آیت سے رہنمائی لی۔
  • حساس الفاظ بولنے سے پہلے انسان کو سوچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں