صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۷ - بیوی کو حرام کہنے کا کفارہ
بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا: قسم اور کفارہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۷۷
حدثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، وَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .
ابن عباس روایت:
جب کوئی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے، اس کا کفارہ وہ دے۔پھر آپ نے آیت پڑھی «لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (۳۳-الأحزاب:۲۱
صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل ہوا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے، اور اس کا کفارہ دے گا۔ پھر انہوں نے آیت تلاوت کی کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر عام طور پر پوچھے جانے والے سوال “بیوی کو حرام کہنے کا حکم کیا ہے؟” کا ایک صاف جواب دیتی ہے۔ اس میں نہ لمبی بحث ہے، نہ اضافی واقعہ، بلکہ صرف اتنی بات ہے کہ اس لفظ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قسم کے حکم میں رکھا اور کفارہ کا ذکر کیا۔ اس لیے بیان بھی اسی حد تک رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوی کو حرام کہنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک قسم ہے۔
- قسم کے ساتھ کفارہ کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔
- آیت کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کی طرف رہنمائی دی گئی۔
- گھریلو معاملے میں سخت الفاظ بولنے سے بچنا چاہیے۔
