صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۰ - سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا موقف

مطلقہ ثلاثہ کے نفقہ پر اختلافِ روایت کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۱۰

وَحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حدثنا أَبُو أَحْمَدَ ، حدثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى ، وَلَا نَفَقَةً " ، ثُمَّ أَخَذَ الْأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ بِهِ ، فقَالَ : وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ ، هَذَا قَالَ عُمَرُ : لَا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي لَعَلَّهَا حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّكْنَى ، وَالنَّفَقَةُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة الطلاق آية 1 ،

‏‏‏‏ ابو اسحاق، اسود کے ساتھ تھے بڑی مسجد میں اور شعبی بھی۔ سو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اسے گھر دلوایا، نہ خرچ اور اسود نے ایک مٹھی کنکر لی اور شعبی کی طرف پھینکی اور کہا کہ تم اسے روایت کرتے ہو یہ کیا تمہاری خرابی ہے اور حالانکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ہم نہیں چھوڑتے کتاب اللہ تعالیٰ کی اور سنت اپنے نبی کی ایک عورت کے قول سے کہ معلوم نہیں شاید وہ بھول گئی یا یاد رکھا اور مطلقہ ثلاث کو گھر دینا چاہیے اور خرچہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ‏‏‏‏ (۶۵-الطلاق:۱) کہ ”مت نکالو ان کو ان کے گھروں سے مگر جب وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں۔“ (یعنی زنا)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک علمی مجلس کا واقعہ ہے۔ ابو اسحاق، اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھے تھے اور شعبی رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے نہ گھر مقرر کیا اور نہ خرچ۔ اس پر اسود نے سخت انداز میں اعتراض کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا کہ ہم کتاب اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے؛ معلوم نہیں اس نے یاد رکھا یا بھول گئی۔ پھر انہوں نے آیت کا حوالہ دیا کہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ اس روایت کا اصل موضوع مطلقہ ثلاثہ کے سکنیٰ و نفقہ پر اختلافِ فہم ہے۔ یہاں دونوں باتیں متن میں موجود ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت اور اس پر اعتراض۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ساتھ اس پر اعتراض بھی نقل ہوا ہے۔
  • سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول آیت کے حوالہ کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
  • مطلقہ ثلاثہ کے سکنیٰ و نفقہ کا مسئلہ صحابہ کے درمیان گفتگو کا موضوع بنا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں