صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۱ - عدت میں ضرورت کے لیے نکلنا
عدت میں عورت کا ضرورت کے لیے نکلنا: آسان حدیث کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۷۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۲۱
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : طُلِّقَتْ خَالَتِي ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا ، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " بَلَى ، فَجُدِّي نَخْلَكِ ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي ، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا " .
سیدنا جابر بن عبداللہ روایت:
میری خالہ کو طلاق ہوئی۔ اور انہوں نے چاہا کہ اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لیں سو ایک شخص نے ان کو جھڑکا ان کے باہر نکلنے پر۔ اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”کیوں نہیں تم جاؤ اور اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لو اس لیے کہ شاید تم اس میں سے صدقہ دو (تو اوروں کا بھلا ہو) یا اور کوئی نیکی کرو۔“ (کہ تمہارا بھلا ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عدت میں ضرورت کے لیے نکلنا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کی خالہ کو طلاق ہوئی، وہ اپنے باغ کی کھجوریں توڑنا چاہتی تھیں، مگر ایک شخص نے انہیں باہر نکلنے سے روکا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لو، شاید تم اس میں سے صدقہ دو یا کوئی نیکی کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عدت میں عورت کو ہر حال میں بے وجہ تنگ کرنا درست نہیں۔ جب حقیقی ضرورت ہو، جیسے اپنے مال کی دیکھ بھال یا فائدہ اٹھانا، تو اجازت دی گئی۔ اس حدیث میں نیکی، صدقہ اور معروف کام کی ترغیب بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عدت میں عورت کو ضرورت کے وقت باہر جانے کی اجازت ہو سکتی ہے۔
- کسی کو دین کے نام پر بلا وجہ سختی نہیں کرنی چاہیے۔
- اپنے مال سے صدقہ یا نیکی کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- مسئلہ پیش آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو اصل ماننا چاہیے۔
