صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۲ - حاملہ بیوہ کی عدت
حاملہ بیوہ کی عدت کب ختم ہوتی ہے؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۷۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۲۲
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَ حَرْمَلَةُ : حدثنا ، وقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ ، فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا ، وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ ؟ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، يُخْبِرُهُ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا ، تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، فقَالَ لَهَا : مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تَرْجِينَ النِّكَاحَ ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ، قَالَت سُبَيْعَةُ : فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، " فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي ، وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ ، وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ .
عبیداللہ بن عبداللہ روایت:
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا کہ ان کے باپ نے عمر بن عبداللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ رضی اللہ عنہا بنت حارث اسلمیہ کے پاس جائیں اور ان سے ان کی حدیث کو دریافت کریں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا۔سو عمر بن اللہ نے ان کو لکھا کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ سعد رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی اور قبیلہ بنی عامر بن لؤی سے تھی اور غزوہ بدر میں حاضر ہوئی تھی اور حجتہ الوداع میں انہوں نے وفات پائی اور یہ حاملہ تھی پر کچھ دیر نہ ہوئی ان کی وفات کو کہ ان کا حمل وضع ہوا بعد وفات شوہر کے پھر جب اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے سنگار کیا پیغام دینے والوں کے لئے اور ابوالسنابل ان کے پاس آئے اور وہ ایک مرد تھے قبیلہ بنی عبدالدار کے اور ان سے کہا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو سنگھار کیے دیکھتا ہوں شاید تم نکاح کا ارادہ رکھتی ہو؟ اور اللہ کی قسم! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم پر چار مہینے اور دس دن نہ گزر جائیں۔سبیعہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب انہوں نے مجھ سے یوں کہا تو میں اپنے کپڑے اوڑھ پہن کر شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں اسی وقت اپنی عدت پوری کر چکی جب کہ میں نے وضع حمل کیا اور حکم دیا مجھ کو نکاح کا جب میں چاہوں۔ابن شہاب نے کہا کہ میں اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں جانتا کہ کوئی عورت نکاح کرے بعد وضع کے اسی وقت اگرچہ وہ ابھی خون نفاس میں ہو۔ مگر اتنی بات ضروری ہے کہ اس کا شوہر اس سے صحبت نہ کرے جب تک کہ وہ پاک نہ ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حاملہ بیوہ کی عدت کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہوا، اس وقت وہ حاملہ تھیں۔ شوہر کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ جب وہ نفاس سے کچھ سنبھلیں تو نکاح کے پیغام دینے والوں کے لیے تیار ہوئیں۔ ایک شخص نے کہا کہ تم چار مہینے دس دن سے پہلے نکاح نہیں کر سکتیں۔ سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ وضع حمل کے ساتھ ان کی عدت پوری ہو چکی ہے، اور اگر وہ چاہیں تو نکاح کر سکتی ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ بیوہ کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاملہ بیوہ کی عدت وضع حمل کے ساتھ پوری ہو جاتی ہے۔
- دینی مسئلہ میں اندازے کے بجائے اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
- غلط بات سن کر صحیح رہنمائی لینا درست طریقہ ہے۔
- نکاح کا فیصلہ عورت اپنی عدت پوری ہونے کے بعد کر سکتی ہے۔
