صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۳ - وضع حمل سے عدت پوری
وضع حمل کے بعد عدت پوری ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۷۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۲۳
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْزِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ : أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عَنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُمَا يَذْكُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عِدَّتُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَدْ حَلَّتْ ، فَجَعَلَا يَتَنَازَعَانِ ذَلِكَ ، قَالَ : فقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي ، يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، يَسْأَلُهَا : عَنْ ذَلِكَ ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ : أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَت : إِنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، وَإِنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ " ،
سلیمان بن یسار روایت:
ابوسلمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور اس عورت کا ذکر کرنے لگے جو اپنے شوہر کے مرنے کے بعد کئی رات کے پیچھے نفاس میں ہو جائے یعنی وضع حمل کرے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دونوں عدتوں میں جو اخیر میں پوری ہو وہ پوری کرے اور ابوسلمہ نے کہا کہ وہ اسی وقت عدت پوری کر چکی اور ان دونوں میں آپس میں تنازعہ ہونے لگا۔سو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں یعنی ابوسلمہ کے غرض کریب جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولٰی تھے ان کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس روانہ کیا تاکہ ان سے جا کر پوچھیں سو وہ ان کے پاس آئے اور لوٹ کر خبر دی کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ سیدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو نفاس ہوا ان کے شوہر کی وفات کے کئی رات بعد اور پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نکاح کا حکم دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک اہم سوال کا جواب ملتا ہے کہ اگر شوہر کے انتقال کے چند دن بعد عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو عدت کا حکم کیا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ کے درمیان اس مسئلے پر گفتگو ہوئی۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ابوسلمہ کی بات کی تائید کی، اور معاملہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو شوہر کی وفات کے چند دن بعد نفاس ہوا، یعنی بچہ پیدا ہوا، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے انہیں نکاح کا حکم دیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ حاملہ بیوہ کی عدت وضع حمل سے پوری ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اختلاف ہو تو صحیح روایت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- حاملہ بیوہ کے لیے وضع حمل عدت کے ختم ہونے کا سبب ہے۔
- صحابہ کرام دینی مسئلہ میں تحقیق کرتے تھے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ مسئلے کو واضح کر دیتا ہے۔
