صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۴ - سبیعہ رضی اللہ عنہا کی روایت
سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کی عدت والی روایت کی تائید
صحیح مسلم : ۳۷۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۲۴
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ . ح وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، وَلَمْ يُسَمِّ كُرَيْبًا .
یحییٰ بن سعید روایت:
یحییٰ بن سعید سے اسی اسناد سے یہی مضمون مروی ہے مگر لیث کی روایت میں یہ ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو روانہ کیا کریب کا نام نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۲۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے اسی مضمون کو دوسرے طریق سے بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیجا گیا تاکہ وہ حاملہ بیوہ کی عدت کے بارے میں پوچھے۔ فرق صرف اتنا ذکر ہوا ہے کہ ایک روایت میں بھیجے جانے والے شخص کا نام کریب آیا، جبکہ اس روایت میں نام نہیں لیا گیا۔ اصل بات وہی رہتی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ حاملہ بیوہ کی عدت کو سمجھنے کے لیے بیان کیا گیا۔ اس طرح کی روایات سے طالب علم کو یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ کبھی ایک ہی مضمون مختلف سندوں اور الفاظ سے آتا ہے۔ یہاں اصل حکم پچھلی روایت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یعنی وضع حمل کے بعد عدت پوری ہونا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی دینی مسئلہ مختلف روایتوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
- الفاظ کے معمولی فرق سے اصل حکم نہیں بدلتا جب مضمون ایک ہو۔
- صحابہ اور تابعین مسئلہ جاننے کے لیے معتبر اہل علم سے پوچھتے تھے۔
- حاملہ بیوہ کی عدت کے مسئلے میں سبیعہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اہم ہے۔
