صحیح مسلم حدیث ۳۷۴ - ایمان کا مدینہ کی طرف سمٹنا

ایمان کا مدینہ کی طرف لوٹنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان سمٹ کر مدینہ میں اس طرح سے آ جائے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں سما جاتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۴ کا خلاصہ

یہ حدیث ایمان اور مدینہ کے تعلق کو ایک مختصر مگر مؤثر مثال سے بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا، جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ جاتا ہے۔ اس میں مدینہ کی فضیلت اور ایمان کی نسبت کا بیان ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر جگہ ایمان ختم ہو جائے گا، بلکہ دیے گئے الفاظ کے مطابق ایمان کے مدینہ کی طرف سمٹنے کی بات ہے۔ سانپ کے بل والی مثال سے واپسی، پناہ اور مرکز کی کیفیت سمجھ آتی ہے۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ ایمان کوئی صرف زبان کی بات نہیں؛ اس کی حفاظت، نسبت اور مرکزیت بھی اہم ہے۔ مدینہ ایمان کی یاد، سنت کی محبت اور دین کی وابستگی کا خاص نام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مدینہ کی نسبت ایمان کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
  • ایمان کی حفاظت ایک مستقل ضرورت ہے۔
  • حدیث میں سانپ کے بل کی مثال واپسی کے لیے آئی ہے۔
  • دین کی اصل نسبت کو دل میں تازہ رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں