صحیح مسلم حدیث ۳۷۳ - اسلام کا مسجدوں کے درمیان سمٹنا
اسلام کا دوبارہ غریب ہونا اور حرمین کی طرف سمٹنا
صحیح مسلم : ۳۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا ، كَمَا بَدَأَ وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام شروع ہوا غربت میں اور پھر غریب ہو جائے جیسے شروع ہوا تھا اور وہ سمٹ کر دونوں مسجدوں (مکے مدینے) کے بیچ میں آ جائے گا، جیسے سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ (بل) میں چلا جاتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسلام کی غربت کا مضمون ایک مزید مثال کے ساتھ آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام غریب شروع ہوا اور پھر غریب ہو جائے گا، جیسے شروع ہوا تھا۔ پھر فرمایا کہ وہ دونوں مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا، جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں “دونوں مسجدوں” کا ذکر آیا ہے، جس سے مکہ اور مدینہ کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ دین کی اجتماعی حالت بدل سکتی ہے، مگر اسلام کی اصل نسبت پاک مقامات اور ایمان والوں کے دلوں سے جڑی رہتی ہے۔ یہ حدیث غریب الاسلام، حرمین، اور دین پر قائم رہنے والوں کے لیے ایک گہری یاد دہانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کی حالت زمانے کے ساتھ بدل سکتی ہے۔
- حدیث میں دین کے سمٹنے کی مثال دی گئی ہے۔
- مکہ و مدینہ کی نسبت دین کے ساتھ خاص طور پر آئی ہے۔
- اجنبیت کے دور میں دین کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔
