صحیح مسلم حدیث ۳۷۲ - اسلام غریب شروع ہوا اور غریب لوٹے گا

اسلام غریب شروع ہوا: غرباء کے لیے خوشخبری

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ َ جَمِيعًا ، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَدَأَ الإِسْلَامُ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام شروع ہوا غربت سے (مدینے میں) اور پھر ایسے ہی لوٹ آئے گا، جیسے شروع ہوا تھا (مدینہ میں) تو خوشی ہو غریبوں کیلئے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۲ کا خلاصہ

یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام دل کو سنبھالنے والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام غریب شروع ہوا اور دوبارہ ویسا ہی غریب ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، پس غریبوں کے لیے خوشی ہے۔ یہاں “غریب” سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں دین پر قائم رہنے والے لوگ کم، اجنبی یا الگ محسوس ہو سکتے ہیں۔ حدیث کا اصل لفظ یہی بتاتا ہے کہ اسلام کی ابتدا بھی ایسی تھی اور ایک وقت پھر ایسی کیفیت آ سکتی ہے۔ اس میں مایوسی نہیں، بلکہ ثابت قدم رہنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ یہ حدیث اسلام کی غربت، دین پر قائم رہنے، اور ماحول کے بدلنے کے باوجود حق کو نہ چھوڑنے کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین پر قائم رہنے والے کبھی اجنبی محسوس ہو سکتے ہیں۔
  • حدیث میں غرباء کے لیے خوشخبری آئی ہے۔
  • اسلام کی ابتدا بھی کمزوری اور اجنبیت کے ماحول میں ہوئی۔
  • مشکل ماحول میں ثابت قدمی بڑی نعمت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں