صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۳ - انصاری مرد اور بیوی کا لعان
انصاری جوڑے کا لعان: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جدائی کر دی
صحیح مسلم : ۳۷۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۵۳
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرا دیا درمیان ایک مرد انصاری اور اس کی عورت کے اور جدائی کر دی ان دونوں میں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۳ کا خلاصہ
یہ روایت لعان کے حکم کو مختصر الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا، پھر دونوں میں جدائی کر دی۔ یہاں تفصیلی واقعہ نہیں، بلکہ خلاصہ ہے کہ لعان کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوا اور اس کے بعد جدائی کا فیصلہ ہوا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لعان صرف الزام کا نام نہیں، بلکہ ایک شرعی عمل ہے جس کے بعد میاں بیوی کے رشتے پر اثر پڑتا ہے۔ اس روایت کو لعان کی حدیث، انصاری مرد کا لعان، اور لعان کے بعد جدائی جیسے سرچ الفاظ سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں جو بات آئی ہے، وہی بیان کی گئی ہے: لعان ہوا اور جدائی ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا۔
- لعان کے بعد دونوں میں جدائی کی گئی۔
- روایت لعان کے شرعی نتیجے کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔
- سنگین ازدواجی معاملے کو نبوی طریقے سے حل کیا گیا۔
