صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۷ - ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا لعان
ہلال بن امیہ کا واقعہ: اسلام میں پہلا لعان
صحیح مسلم : ۳۷۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۵۷
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْهُ عِلْمًا ، فَقَالَ : إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لَاعَنَ فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَلَاعَنَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْصِرُوهَا ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ ، فَهُ وَلِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ ، فَهُ وَلِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ " ، قَالَ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ .
محمد روایت:
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، یہ سمجھ کر کہ ان کو معلوم ہے انہوں نے کہا کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نسبت کی زنا کی اپنی بیوی کو شریک بن احماء سے اور ہلال بن امیہ براء بن مالک کا مادری بھائی تھا اور اس نے سب سے پہلے لعان کیا اسلام میں۔ راوی نے کہا: پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو دیکھتے رہو اگر اس کا بچہ سفید رنگ کا سیدھے بال والا لال آنکھوں والا پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہے اور جو سرمئی آنکھوں والا گھونگریالے بالوں والا، پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ کو خبر پہنچی کہ اس عورت کا لڑکا سرمگیں آنکھ گھونگریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہوا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۵۷ کا خلاصہ
یہ حدیث ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ لعان کو بیان کرتی ہے۔ محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ الزام لگایا۔ روایت میں آیا کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اسلام میں سب سے پہلے لعان کرنے والے شخص تھے۔ پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی ممکنہ ظاہری علامات بیان فرمائیں: اگر بچہ خاص صورت کا ہو تو ہلال بن امیہ کا، اور اگر دوسری علامات کے ساتھ ہو تو شریک بن سحماء کا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں خبر پہنچی کہ بچہ دوسری بیان کردہ علامات کے مطابق پیدا ہوا۔ اس حدیث میں اصل بات لعان کا واقعہ، الزام، اور بچے کی مشابہت کا ذکر ہے؛ اس سے زیادہ حکم خود سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اسلام میں پہلے لعان کے طور پر بیان ہوا۔
- سنگین الزام کے بعد لعان کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی ظاہری علامات کا ذکر فرمایا۔
- واقعہ میں جو بات آئی ہے اسے اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
