صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۲ - چار گواہوں کا حکم
چار گواہوں کی حدیث: الزام میں جلد بازی نہیں
صحیح مسلم : ۳۷۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۲
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أأمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو کیا اس کو مہلت دوں چار گواہ لانے تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع چار گواہ اور احتیاط ہے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو دیکھوں تو کیا میں اسے اتنی مہلت دوں کہ چار گواہ لے آؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس مختصر جواب میں بڑا واضح سبق ہے۔ ایسے نازک معاملے میں انسان کے جذبات بہت تیز ہو سکتے ہیں، مگر حدیث بتاتی ہے کہ صرف غصے یا شک کی بنیاد پر فوری کارروائی نہیں کی جاتی۔ چار گواہوں کا ذکر اس بات کو مضبوط کرتا ہے کہ عزت، جان اور خاندان کے معاملے میں بہت احتیاط لازم ہے۔ یہ حدیث الزام، غیرت، زنا کے دعوے اور شرعی گواہی کے بارے میں سادہ مگر مضبوط اصول دیتی ہے کہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ مقررہ طریقے سے ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- الزام کے معاملے میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- چار گواہوں کا ذکر شرعی احتیاط کو ظاہر کرتا ہے۔
- غیرت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پابندی ضروری ہے۔
- خاندانی معاملے میں فیصلہ ذاتی غصے پر نہیں چھوڑا گیا۔
