صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۴ - اللہ کی غیرت اور بے حیائی

اللہ کی غیرت کی حدیث: کھلی اور چھپی بے حیائی سے بچنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۴

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرُ مُصْفِحٍ عَنْهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " .

مغیرہ بن شعبہ روایت:

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی بی بی کے پاس کسی مرد کو دیکھوں تو تلوار سے مار ڈالوں کبھی نہ چھوڑوں۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو۔ اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اللہ جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت دار ہے۔حرام کیا اللہ نے بے شرمی کی باتوں کو چھپی اور کھلی اسی غیرت کی وجہ سے اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت دار نہیں ہے اور اللہ سے زیادہ کسی شخص کو عذر پسند نہیں ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں علیہم السلام کو بھیجا خوشی اور ڈر سناتے ہوئے (تاکہ بندے سزا سے پہلے اس کی درگاہ میں عذر کر لیں اور توبہ کریں) اور کسی شخص کو اللہ سے زیادہ تعریف پسند نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا جنت کا۔“ (تاکہ بندے اس کی عبادت اور تعریف کر کے جنت حاصل کر لیں)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی غیرت اور بے حیائی کی حرمت ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی غیرت کا ذکر کیا کہ اگر وہ اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو دیکھیں تو تلوار سے مار دیں۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم، میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں، اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت دار ہے۔ پھر آپ نے بتایا کہ اللہ کی غیرت ہی کی وجہ سے کھلی اور چھپی بے شرمی کی باتیں حرام کی گئیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اللہ کو عذر پسند ہے، اسی لیے رسول خوشخبری اور ڈر سنانے والے بنا کر بھیجے گئے۔ اس حدیث میں غیرت، حیا، گناہ سے بچاؤ اور اللہ کی طرف رجوع کا صاف پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ نے کھلی اور چھپی بے حیائی کو حرام کیا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی غیرت کو سب سے بڑھ کر بتایا۔
  • رسولوں کو خوشخبری اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا گیا۔
  • جنت کا وعدہ بندوں کو نیکی اور اللہ کی تعریف کی طرف بلاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں