صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۳ - غیرت اور اللہ کا حکم
غیرت اور چار گواہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم
صحیح مسلم : ۳۷۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَلَّا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اس کو ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں۔ میں تو قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا جلدی اس کا علاج تلوار سے کر دوں اس سے پہلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں وہ بڑے غیرت دار ہیں اور میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اللہ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث غیرت، چار گواہ اور اللہ کی غیرت کے موضوع کو بیان کرتی ہے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھیں تو کیا چار گواہ لانے تک ہاتھ نہ لگائیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی سخت غیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ تلوار سے جلدی معاملہ کر دیں گے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے سردار کی بات سنو، وہ بہت غیرت دار ہیں، میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں، اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ غیرت کا جذبہ موجود ہے، مگر وہ اللہ کے حکم اور نبی کے فیصلے کے اندر رہ کر ہی درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیرت کا جذبہ ہو تو بھی شرعی طریقہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار گواہوں کے حکم کی تائید فرمائی۔
- اللہ تعالیٰ کی غیرت سب سے بڑھ کر ہے۔
- سخت جذبات کے وقت بھی اللہ اور رسول کا حکم اصل رہتا ہے۔
