صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۷ - نسب کے انکار کی اجازت نہیں
نسب کے انکار کی حدیث: رنگ فرق ہو تو بھی احتیاط
صحیح مسلم : ۳۷۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۷
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَدَتِ امْرَأَتِي غُلَامًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ .
زہری روایت:
زہری نے ابن عیینہ کی حدیث کی مانند روایت کی اس میں اتنا فرق ہے کہ کہا: اے رسول اللہ تعالیٰ کے! میری عورت نے لڑکا سیاہ جنا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کا انکار کروں اور دوسری حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو انکار کرنے کی اجازت نہ دی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع نسب کا انکار اور بچے کے رنگ پر شک ہے۔ روایت میں بتایا گیا کہ ایک شخص نے کہا کہ میری عورت نے سیاہ لڑکا جنا ہے، اور وہ اس کا انکار کرنا چاہتا تھا۔ پچھلی روایت کی طرح یہاں بھی بات اسی مثال سے سمجھائی گئی کہ جانوروں میں بھی رنگ کبھی نسل کی کسی رگ سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس روایت کے آخر میں خاص بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کا انکار کرنے کی اجازت نہ دی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صرف رنگ کے فرق کو بنیاد بنا کر بچے کو اپنا نہ ماننا درست نہیں۔ حدیث کا انداز بہت حکمت والا ہے: پہلے سوال، پھر مثال، پھر نتیجہ۔ اس سے شک میں مبتلا شخص کو سمجھایا گیا، نہ کہ فوراً سختی کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رنگ کے فرق کی وجہ سے بچے کا انکار کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلیل کے ساتھ شک دور کیا۔
- نسب کے معاملے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔
- خاندانی شک کو مثال اور سمجھداری سے حل کیا جا سکتا ہے۔
