صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۶ - بچے کے رنگ پر شک نہیں
بچے کے رنگ کی حدیث: نسب میں جلد شک نہ کرو
صحیح مسلم : ۳۷۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۶
وَحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " ، قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ " ، قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک شخص بنی فزارہ میں سے آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا: میری جورو کو ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے (تو وہ میرا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں کالا نہیں ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ ہیں“؟ اس نے کہا: ہاں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ وہ بولا: لال ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کوئی خاکی بھی ہے“ اس نے کہا: ہاں خاکی بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ رنگ کہاں سے آیا۔“ اس نے کہا: کسی رگ نے گھسیٹ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے بچے میں بھی کسی رگ نے یہ رنگ گھسیٹ لیا ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نسب اور بچے کے رنگ پر شک ہے۔ بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہا کہ میری بیوی نے کالا بچہ جنا ہے۔ اس کے دل میں شک تھا کیونکہ وہ خود ایسا رنگ نہیں رکھتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً الزام نہیں مانا، بلکہ بہت آسان مثال دی۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ ہیں۔ پھر پوچھا کہ کیا ان میں خاکی رنگ بھی ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ جب اس نے خود کہا کہ کسی رگ نے رنگ کھینچ لیا ہو گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بچے میں بھی کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ یہ حدیث سکھاتی ہے کہ رنگ کے فرق کی وجہ سے نسب کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صرف رنگ کے فرق سے بچے کے نسب کا انکار نہیں کیا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے کے لیے آسان مثال دی۔
- شک کے وقت جلدی الزام لگانے سے بچنا چاہیے۔
- خاندان کے معاملے میں نرمی اور غور سے بات کرنا چاہیے۔
