صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۸ - رنگ کا فرق اور نسب
رنگ کے فرق پر شک: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آسان مثال
صحیح مسلم : ۳۷۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۶۸
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنَّى هُوَ " ، قَالَ : لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
تحقیق ایک اعرابی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا: اے رسول اللہ کے! میری عورت نے کالا بچہ جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ ہیں۔“ اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا رنگ کیسا ہے۔“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہ ان میں کوئی کالا بھی ہے؟“ وہ بولا: ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رنگ کہاں سے آ گیا۔“ اعرابی بولا کہ اے رسول اللہ تعالیٰ کے! کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہو گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ یہاں بھی کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع رنگ کا فرق اور نسب ہے۔ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میری عورت نے کالا بچہ جنا ہے اور میں اسے نہیں مانتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے ان کے رنگ کے بارے میں پوچھا۔ اس نے سرخ رنگ بتایا، پھر یہ بھی مانا کہ ان میں اور رنگ بھی ہے۔ جب اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات بچے کے بارے میں فرمائی۔ یہ حدیث بہت آسان انداز میں بتاتی ہے کہ خاندان میں رنگ کا فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے شک، الزام اور انکار میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کے رنگ کا فرق نسب کے انکار کے لیے کافی نہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزمرہ مثال سے بات سمجھائی۔
- شک کو دلیل کے ساتھ دور کرنا بہتر ہے۔
- خاندان کے معاملے میں زبان اور فیصلہ دونوں میں احتیاط چاہیے۔
