صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۲ - شریک کے حصے کی ضمانت
مشترک غلام میں حصہ آزاد کرنا: شریک کے حق کی ضمانت
صحیح مسلم : ۳۷۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۲
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا " ، قَالَ : يَضْمَنُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بردہ دو آدمیوں میں مشترک ہو پھر ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ ضامن ہو گا دوسرے شریک کے حصےکا۔“ (اگر مالدار ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مشترک غلام میں آزادی اور ضمانت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ دوسرے شریک کے حصے کا ضامن ہو گا۔ ترجمے میں یہ بات بھی سمجھائی گئی ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب وہ مالدار ہو۔ اس حدیث میں ایک صاف اصول ملتا ہے: آزادی کا نیک کام کیا جائے، مگر اس کے ساتھ دوسرے انسان کا مالی حق بھی ضائع نہ ہو۔ اگر کسی نے اپنے حصے میں آزادی کا قدم اٹھایا ہے تو اسے دوسرے شریک کے حق کی ذمہ داری بھی سمجھنی چاہیے۔ اس طرح غلام کی آزادی اور مالکوں کے حصوں کا انصاف دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک غلام کا حصہ آزاد کرنے پر دوسرے شریک کا حق باقی رہتا ہے۔
- مالدار ہونے کی صورت میں آزاد کرنے والا ضامن ہو گا۔
- نیکی کے کام میں بھی مالی انصاف کا خیال ضروری ہے۔
- آزادی اور حقوق دونوں کو ساتھ رکھا گیا ہے۔
