صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۳ - آزادی اور نرمی کا حکم
غلام آزاد کرنے کی حدیث: مال نہ ہو تو سختی نہیں
صحیح مسلم : ۳۷۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۳
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا حصہ غلام میں آزاد کر دے اس کا چھڑانا (یعنی دوسرے حصہ کا آزاد کرنا) بھی اسی کے مال سے ہو گا۔ اگر مالدار ہو۔ اگر مالدار نہ ہو تو غلام محنت مزدوری کرے اور اس پر جبر نہ کریں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مشترک غلام کی آزادی اور نرمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، اگر اس کے پاس مال ہو تو باقی آزادی بھی اسی کے مال سے ہو گی۔ یعنی دوسرے شریکوں کے حصے کی ادائیگی کی جائے گی۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام محنت مزدوری کرے، مگر اس پر جبر نہ کیا جائے۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: آزادی کا راستہ کھلا رکھا گیا، اور ساتھ ہی دوسرے شریکوں کا مالی حق بھی محفوظ رکھا گیا۔ لیکن جب غلام کو کام کے ذریعے اپنے باقی حصے کی طرف بڑھنا ہو تو اس پر سختی کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ حکم عدل، نرمی اور انسانی رعایت کا خوبصورت انداز دکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالدار شخص باقی حصے کی آزادی اپنے مال سے مکمل کرے گا۔
- مال نہ ہو تو غلام سے محنت لی جا سکتی ہے، مگر سختی نہیں۔
- آزادی کے معاملے میں نرمی کا پہلو رکھا گیا ہے۔
- دوسرے شریکوں کا حق بھی ضائع نہیں کیا گیا۔
