صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۴ - واجبی قیمت اور نرمی
مشترک غلام کی واجبی قیمت: محنت ہو مگر جبر نہیں
صحیح مسلم : ۳۷۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۴
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ : إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ، ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ .
ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”اگر وہ آزاد کرنے والا مال دار نہ ہو تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے اور محنت کرے اپنے باقی حصے کے لیے جو آزاد نہیں ہوا مگر اس پر جبر نہ ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۴ کا خلاصہ
اس روایت کا موضوع مشترک غلام کی آزادی، واجبی قیمت اور نرمی ہے۔ ترجمے میں بتایا گیا کہ اوپر والی روایت ہی کا مضمون ہے، مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر آزاد کرنے والا مالدار نہ ہو تو غلام کی مناسب اور واجبی قیمت لگائی جائے گی۔ پھر غلام اپنے باقی حصے کے لیے محنت کرے گا، لیکن اس پر جبر نہیں کیا جائے گا۔ یہ اضافہ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی معاملہ اندازے یا سختی سے نہیں چلایا گیا، بلکہ قیمت عدل سے لگائی گئی۔ ساتھ ہی غلام کی کمزوری کا لحاظ رکھا گیا کہ محنت ہو سکتی ہے مگر اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ اس حدیث میں عدل، نرمی اور حق ادا کرنے کا صاف طریقہ ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال نہ ہو تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی۔
- باقی حصے کے لیے محنت کا ذکر ہے، مگر جبر نہیں۔
- قیمت لگانے میں عدل کا خیال رکھا گیا ہے۔
- کمزور پر سختی نہ کرنے کا سبق ملتا ہے۔
