صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۵ - قیمت عدل کی تاکید
قیمت عدل کی حدیث: غلام کی آزادی میں انصاف
صحیح مسلم : ۳۷۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۵
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ .
قتادہ نے ابن ابی عروبہ کی حدیث کی مانند روایت کی۔ اور حدیث میں یہ بھی ذکر کیا کہ اس کی واجبی قیمت لگائی جائے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۵ کا خلاصہ
اس روایت کا موضوع مشترک غلام کی آزادی میں قیمت عدل ہے۔ متن میں بتایا گیا کہ قتادہ نے ابن ابی عروبہ کی حدیث کی طرح روایت کی، اور اس میں یہ ذکر بھی کیا کہ غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے۔ یہاں اصل زور اسی بات پر ہے کہ جب مشترک غلام کے حصے کی آزادی کا معاملہ آئے تو مالی حق اندازے، ضد یا فائدہ اٹھانے کے لیے نہیں چھوڑا گیا، بلکہ منصفانہ قیمت کی طرف رہنمائی دی گئی۔ یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے کہ آزادی کا عمل نیکی ہے، مگر دوسرے شریک کا حق بھی محفوظ ہے۔ اسی لیے قیمت عدل کا ذکر آیا۔ اس سے عام زندگی کا سبق بھی ملتا ہے کہ حقوق کے معاملات میں انصاف اور صاف حساب رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلام کی قیمت عدل سے لگانے کا ذکر کیا گیا۔
- یہ روایت پچھلے حکم کی تائید کرتی ہے۔
- آزادی کے ساتھ شریکوں کے مالی حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں۔
- حقوق کے معاملے میں منصفانہ انداز اختیار کرنا چاہیے۔
