صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۶ - ولاء آزاد کرنے والے کو

ولاء لمن أعتق: ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۶

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا ، فَقَالَ أَهْلُهَا : نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

عائشہ روایت:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ارادہ کیا ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا۔ لونڈی کے مالکوں نے کہا: ہم اس شرط پر بیچتے ہیں کہ ولاء کا حق ہمارا ہو گا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو بکنے دے تو اپنا کام کر، ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ولاء اور آزادی کا حق ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہتی تھیں۔ لونڈی کے مالکوں نے شرط لگائی کہ بیچیں گے مگر ولاء ہمارا ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ آپ نے فرمایا کہ ان کی بات تمہیں روک نہ دے، اپنا کام کرو، کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ اس حدیث میں بہت صاف اصول بیان ہوا کہ جو آزادی کا عمل کرے گا، ولاء بھی اسی کا حق ہو گا۔ کسی کی لگائی ہوئی ایسی شرط جو اس حق کو بدل دے، اس حدیث کے مضمون کے مطابق معتبر نہیں۔ یہاں نیکی کے کام سے پیچھے نہ ہٹنے کا سبق بھی ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کا حق اسی کو ہے جو آزاد کرے۔
  • غلط شرط نیکی کے کام سے روکنے والی نہیں ہونی چاہیے۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔
  • آزادی کے حق میں صاف شرعی اصول بیان کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں