صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۹ - شرط اللہ کی مضبوط ہے
شرط اللہ کی مضبوط ہے: ولاء آزاد کرنے والے کو ملتی ہے
صحیح مسلم : ۳۷۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۹
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ ، فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ ، فَأَعِينِينِي ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي ، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ ، قَالَتْ : فَانْتَهَرْتُهَا ، فَقَالَتْ : لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، فَفَعَلْتُ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "
عائشہ روایت:
بریرہ میرے پاس آئی اور کہا: میرے مالکوں نے مجھ کو مکاتب کیا ہے نو اوقیہ پر ہر برس میں ایک اوقیہ تو آپ میری مدد کریں۔ میں نے کہا: اگر تمہارے مالک راضی ہوں تو میں یہ ساری رقم یک مشت دے دیتی ہوں اور تم کو آزاد کر دیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء میں لوں گی۔بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا انہوں نے نہ مانا۔ اور یہ کہا کہ ولاء ہم لیں گے۔ پھر بریرہ میرے پاس آئی اور یہ بیان کیا میں نے اس کو جھڑکا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نہ ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور مجھ سے پوچھا میں نے سب حال بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خرید لے اور آزاد کر دے اور ولاء کی شرط انہی کے لیے کر لے کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“میں نے ایسا ہی کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا شام کو اور اللہ کی تعریف کی اور ثناء بیان کی جیسے اس کو لائق ہے پھر فرمایا: ”بعد اس کے کیا حال ہے لوگوں کا کہ وہ دہ شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے۔ اگرچہ سو بار شرط کی گئی ہو اللہ کی کتاب راست اور اللہ کی شرط مضبوط ہے۔ کیا حال ہے تم میں سے بعض لوگوں کا کہتے ہیں دوسرے سے۔ آزاد تم کرو اور ولاء ہم لیں گے۔ حالانکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۹ کا خلاصہ
یہ حدیث بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعے کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے مالکوں نے نو سال میں نو اوقیہ پر کتابت کی ہے، ہر سال ایک اوقیہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدد کی پیشکش کی کہ وہ رقم ایک ساتھ دے کر انہیں آزاد کر دیں گی، مگر ولاء ان کو ملے گی۔ مالکوں نے ولاء اپنے لیے چاہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خریدو، آزاد کرو، اور اگر وہ ولاء کی شرط لگاتے ہیں تو لگا لینے دو، کیونکہ ولاء اسی کو ملتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، چاہے سو بار ہو۔ اس حدیث میں حق، شرط اور آزادی کا صاف اصول بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء کا حق آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔
- اللہ کے حکم کے خلاف شرط باطل ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ عام لوگوں کے سامنے واضح کیا۔
- نیکی کے کام میں ناجائز شرط رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
