صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۷ - باطل شرط اور ولاء
بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: ولاء اور باطل شرط کا حکم
صحیح مسلم : ۳۷۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷۷
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا ، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي ، فَعَلْتُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا ، وَقَالُوا : إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَلَيْسَ لَهُ ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " .
عروہ روایت:
بریرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ان سے مدد مانگنے کو اپنی بدل کتابت میں اور اس نے اپنی کتابت میں سے کچھ ادا نہیں کیا تھا (بلکہ سارا روپیہ باقی تھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: تو اپنے لوگوں کے پاس جا اور اگر وہ منظور کریں تو میں سارا روپیہ کتاب کا ادا کر دیتی ہوں پر ولاء تیری مجھے ملے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکوں سے بیان کیا۔ انہوں نے نہ مانا اور کہا: اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چاہیں تو للہ تیرے ساتھ سلوک کریں لیکن ولاء تو ہم لیں گے۔سیدہ عائشہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خرید کر لے، اور آزاد کر دے، ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا حال ہے لوگوں کا کہ وہ شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں جو شخص ایسی شرط کرے وہ لغو ہے اگرچہ سو مرتبہ اس کی شرط کرے۔ شرط وہی درست اور مضبوط ہے جو اللہ تعالیٰ نے لگائی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ولاء، آزادی اور غلط شرط ہے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اپنی کتابت کی رقم میں مدد چاہی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تمہارے مالک راضی ہوں تو میں ساری رقم ادا کر کے تمہیں آزاد کر دوں گی، مگر ولاء مجھے ملے گی۔ مالکوں نے کہا کہ مدد کر دیں مگر ولاء ہم لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اسی کو ملتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ نے لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ لغو ہے، چاہے سو بار لگائی جائے۔ اس حدیث میں صاف بتایا گیا کہ نیکی، آزادی اور حق کے معاملے میں ناجائز شرط نہیں چلتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے۔
- ایسی شرط جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو معتبر نہیں۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا کی مدد آزادی کے ذریعے کی گئی۔
- دینی معاملے میں شرط وہی مضبوط ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہو۔
