صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۲ - ولاء، آزادی اور صدقہ کے ہدیہ بننے کا حکم

ولاء اسی کا حق ہے جو آزادی دلائے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۸۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ " ، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .

عائشہ روایت:

انہوں نے بریرہ کو خریدا انصار کے لوگوں سے اور اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط کر لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اسی کو ملے گی جو والی ہو نعمت کا۔“ (یعنی آزاد کرے) اور اختیار دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے خاوند کے مقدمہ میں اس کا خاوند غلام تھا اور بریرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے گوشت کا حصہ بھیجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش ہمارے لیے بھی اس میں سے تھوڑا گوشت بناتیں۔“عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت صدقہ ملا ہے بریرہ کو (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ (تو ہم پر اس کا کھانا درست ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام ولاء کی حدیث سے جڑا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا، مگر بیچنے والوں نے ولاء اپنے لیے شرط کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ ولاء اس کے لیے ہے جو نعمت یعنی آزادی کا سبب بنے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا، اور اس روایت میں ان کے شوہر کے غلام ہونے کا ذکر آیا ہے۔ پھر گوشت کا معاملہ سامنے آیا۔ وہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا تھا، مگر انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ اس سے صدقہ اور ہدیہ کا فرق بہت صاف ہو جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کا اصل تعلق آزادی دلانے والے احسان سے ہے۔
  • حدیث میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کے غلام ہونے کا ذکر آیا ہے۔
  • صدقہ جب مستحق کی ملکیت میں آ جائے اور وہ آگے ہدیہ دے تو اس کا حکم بدل سکتا ہے۔
  • دینی مسئلہ پوچھ کر عمل کرنا گھر کے معاملات میں بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں