صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۱ - بریرہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اور ولاء کا حق

ولاء کی حدیث: بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے تین واضح باتیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۸۱

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، قَالَتْ : وَعَتَقَتْ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، قَالَتْ : وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ " .

عائشہ روایت:

بریرہ کے مقدمہ میں تین باتیں پیدا ہوئیں ایک تو یہ کہ اس کے مالکوں نے اس کو بیچنا چاہا اور ولاء کی شرط اپنے لیے کرنا چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ولاء کی شرط انہی کے لیے کر لے اور آزاد کر دے ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا۔“دوسری یہ کہ جب میں نے اس کو آزاد کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دیا اپنے شوہر(مغیث) کے باب میں اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور شوہر کو ناپسند کیا۔ تیسری یہ کہ لوگ بریرہ کو صدقہ دیتے اور وہ ہمارے پاس ہدیہ بھیجتی۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے تو کھاؤ اس کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۱ کا خلاصہ

یہ حدیث بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں تین باتیں آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ولاء کا حق اسی کو ملتا ہے جو آزاد کرے، اس لیے اگر بیچنے والے اپنے لیے ولاء کی شرط لگائیں تو اصل حکم پھر بھی آزاد کرنے والے کے حق میں رہتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے شوہر کے بارے میں اختیار دیا، اور انہوں نے اپنے لیے جدائی کو پسند کیا۔ تیسری بات صدقہ اور ہدیہ سے متعلق ہے۔ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیتے تھے، پھر وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر ہدیہ بھیجتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور تمہارے لیے ہدیہ ہے، اس لیے اسے کھایا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کا حق آزاد کرنے والے سے وابستہ ہے، شرط لگانے والے سے نہیں۔
  • آزادی کے بعد بریرہ رضی اللہ عنہا کو شوہر کے معاملے میں اختیار دیا گیا۔
  • جو چیز ایک شخص کے لیے صدقہ ہو، وہ دوسرے کو ہدیہ بن کر پہنچ سکتی ہے۔
  • معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی واضح اور عملی تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں